ابنا: پاکستان میں گیارہ مئی کو تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہونے والے ہیں، تاہم برٹش کونسل کے مطابق اٹھارہ سے انتیس سال کی عمر کے ووٹرز سیاسی نظام کے حوالے سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔سروے کے دوران چھیانوے فیصد کی بھاری تعداد کا کہنا تھا کہ ملک غلط سمت میں گامزن ہے، جبکہ ایک تہائی افراد کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے مقابلے میں فوجی آمریت ملک کے لیے زیادہ بہتر ہے۔انتیس فیصد افراد نے جمہوریت کو پاکستان کے لیے بہترین نظام قرار دیا، جبکہ اڑتیس فیصد نے اسلامی تعلیمات پر مبنی نظام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو آزادی، حقوق کی فراہمی اور معاشرے سے عدم برداشت کو ختم کرنے کے لیے اسلام کا شرعی نظام ہی بہترین ذریعہ ہے۔سروے کے مطابق اس وقت پاکستان میں اٹھارہ سے انتیس سال کی عمر کے افراد کے ڈھائی کروڑ ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جو ووٹروں کی کل تعداد کا تیس فیصد سے زائد حصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
2 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 405577
بدھ کو جاری ہونے والے ایک سروے کے مطابق آدھے سے زیادہ پاکستانی نوجوانوں کا ماننا ہے کہ خالص جمہوریت کسی طور بھی ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت ہی سماج کو فلاح و بہبودی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔